Wife is entitled to dowry despite not leaving
Posted By: Khan Baba on 24-06-2026 | 12:53:09Category: Political Videos, Newsلاہور: لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور عائلی قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے کی صورت میں بھی بیوی حق مہر کی مکمل حقدار ہے۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا ہے کہ نکاح نامے میں درج ’عند الطلب‘ (مطالبہ کرنے پر واجب الادا) مہر فوری طور پر بیوی کا قانونی حق بن جاتا ہے، چاہے رخصتی عمل میں آئی ہو یا نہیں۔
جسٹس مرزا وقاص رؤف نے سائلہ مسماۃ ازکا افرین کی آئینی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے باقاعدہ ایک ‘عدالتی نظیر’ (پریسیڈنٹ) قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں اور اپیلٹ کورٹ کے ان فیصلوں کو یکسر کالعدم قرار دے دیا ہے جن میں رخصتی نہ ہونے کا جواز بنا کر خاتون کا حق مہر خارج کر دیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے خلع یعنی عورت کی طرف سےشادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے۔
عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ نکاح کی تکمیل کے ساتھ ہی مہر کی شرعی اور قانونی حیثیت نافذ ہو جاتی ہے۔ اس اہم ترین فیصلے سے رخصتی کے بغیر علیحدگی یا خلع اختیار کرنے والی خواتین کے مالی اور قانونی تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔

Control Taken Over! Mohsin Naqvi Makes a Major Announcement
Governor’s Rule and Emergency Are Constitutional Powers, Says Maryam Aurangzeb
Ending Terrorism Is Our Top Priority - Emergency in KP
Gaza Film Receives Huge Acclaim in Israel, Netanyahu Furious
Sohail Sameer looks like Professor! - Police ne dance karwadiya - Hasna Mana Hai
System Reboot in Pakistan? Faisal Vawda's Shocking Statement












