Israel will no longer bomb Lebanon. US President
Posted By: Jabba on 12 hours agoCategory: Political Videos, Newsامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اسرائیل کو لبنان پر بمباری سے روکے گا۔ امریکی صدر نے ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ امریکہ لبنان کے حوالے سے علیحدہ طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن حزب اللہ کی صورتحال سے مناسب طریقے سے نمٹ رہا ہے۔ ایک علیحدہ پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ہم لبنان کو پھر سے عظیم بنائیں گے!. امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو لبنان کے معاملے سے جوڑنے کی بھی تردید کردی اور ساتھ ہی یورینیم کی حوالگی کے بدلے ایران کے لیے فنڈز جاری کرنے کی بھی تردید کی۔ امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ اپنے عظیم ’’ بی ٹو ‘‘ بمبار طیاروں سے پیدا ہونے والا تمام جوہری گرد حاصل کر لے گا – اس کے لیے کسی بھی شکل میں پیسوں کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ کسی بھی طرح سے لبنان سے منسلک نہیں ہے لیکن امریکہ لبنان کے ساتھ علیحدہ طور پر کام کرے گا۔ امریکہ حزب اللہ کی صورتحال سے مناسب طریقے سے نمٹائے گا۔ اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا۔ امریکہ اسے روک رہا ہے۔ بس اب بہت ہو چکا!۔ جمعہ کو ہزاروں لبنانیوں نے ملک کے جنوب اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے جہاں کل جمعرات کی آدھی رات کو اسرائیل کے ساتھ 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا ازدحام دیکھا گیا۔ لبنانی وزارت صحت کے ہنگامی آپریشنز سینٹر کے بیان کے مطابق گزشتہ 2 مارچ سے جمعرات تک لبنان پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2196 تک پہنچ گئی ہے ۔ 7185 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملے حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر بمباری کے ردعمل میں کیے گئے تھے جو گزشتہ 28 فروری کو ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کی شروع کردہ جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا جو دریائے لیطانی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ دریا اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرہ روم میں گرتا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے دوران لیطانی کے جنوب میں رہنے والے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ اسرائیلی افواج نے خطے میں لبنانی قصبوں اور دیہاتوں کو تباہ کر دیا اور کہا کہ اس کا مقصد شمالی اسرائیل کے قصبوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے ایک بفر زون قائم کرنا ہے۔ لبنان پر اسرائیلی فوجی مہم ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی تھی۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ لبنان اور اسرائیل ایک طویل مدتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کریں گے اور اشارہ کیا کہ لبنان نے حزب اللہ کے معاملے کو سنبھالنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس میں سنجیدہ مذاکرات کے لیے مدعو کریں گے۔ دونوں ممالک 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔

Japan announces $10 billion in aid to supply energy to Asian countries
Pakistan calls for immediate ceasefire in Congo
Dubai's luxurious 'Burj Al Arab' hotel to close for 18 months
Pakistani flagged oil tanker 'Shalamar' leaves the Strait of Hormuz carrying crude oil.
Alert issued regarding possible weather conditions from April 18 to 23
Nawab Town robbery incident - Harsh notice from Chief Minister Punjab Maryam Nawaz












