Sarfraz Ahmad will decide the decision to change the betting order in New Zealand
Posted By: Akbar on 26-12-2017 | 08:47:02Category: Political Videos, Newsلاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا فیصلہ کنڈیشنز دیکھ کر کریں گے۔ امید ہے کہ دورہ نیوزی لینڈ میں بیٹنگ آرڈر مستحکم رہے گا اور زیادہ تبدیلیاں نہیں کرنی پڑیں گی۔
قذافی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ اوپنر امام الحق نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا ہے، دیگر بھی اپنی پوزیشنز کے مطابق اچھا کھیل رہے ہیں، بیٹنگ آرڈر کے حوالے سے حتمی فیصلہ نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز دیکھ کرکریں گے تاہم کوشش کریں گے کہ زیادہ تبدیلیاں نہ کرنا پڑیں،انہوں نے کہا کہ دورہ نیوزی لینڈ کےلیے تیاریاں کی ہیں،اچھا پرفارم کرنے کی کوشش کریں گے۔
سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ بولنگ ہمارا اہم ہتھیارہے لیکن پوری ٹیم اچھا کھیلنے کےلیے توجہ دے رہی ہے، فخرزمان کے سوا تمام کھلاڑی نیوزی لینڈ میں کھیل چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ ہوم گراؤنڈ پر مضبوط حریف ثابت ہوتی ہے، دوسری جانب ہم بھی مسلسل 9 میچ جیت کر آرہے ہیں اور بولنگ ہمارا مضبوط شعبہ ہے، بد قسمتی سے انجریز ہوگئی لیکن امید ہے اچھا پرفارم کریں گے۔
قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ عماد وسیم، جنید خان اور عثمان شنواری کے انجریز ہونے سے نقصان ضرور پہنچا لیکن عامر یامین ، محمد عامر اور حسن علی کمی پوری کریں گے، حارث سہیل کو آل راﺅنڈر سمجھتے ہیں بیٹنگ ان کی زیادہ اچھی ہے، محمد نواز بولنگ آل راونڈر ہے، ادھر جا کر فیصلہ کریں گے کہ کس کو پلیئنگ الیون میں شامل کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ تفریح کےلیے ٹی ٹین سب سے اچھا ہے، نئی نسل میں رحجان بڑھ گیا تو ٹیسٹ کرکٹ کو پیچھے لے جائے گا، اگر لمبی اننگز کھیلنا چاہتے ہیں تو ٹی ٹین نا ہی کھیلیں تو بہتر ہوگا، محمد حفیظ کی بولنگ کی کمی محسوس ہوگی لیکن ان کی کمی شعیب ملک ضرور پوری کریں گے۔

Israel launches airstrikes on Lebanon, killing 6
UN Security Council passes resolution to stop Iran's attacks on neighboring countries
Possible date of Eid-ul-Fitr revealed in Pakistan
Iran continues missile attacks on Israel, injuring more than 200 Israelis
Father was martyred while reciting the Holy Quran on the 10th of Ramadan, Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei
Eid holidays announced in another Gulf country












