Top Rated Posts ....
Search

UN Security Council passes resolution to stop Iran's attacks on neighboring countries

Posted By: Khan Baba on 6 hours agoCategory: Political Videos, News


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کو پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 13 ووٹ آئے جبکہ سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان چین اور روس نے قرارداد کو ویٹو نہیں کیا اور غیر جانبدار رہے۔ پاکستان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازع کے نتائج واضح ہیں اور اس کے اثرات اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے علاقائی اور عالمی پہلو سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا تنازع ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی امن کو فروغ دینے کے بجائے اسے خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ انہوں نے فوری اور مکمل جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف پرامن حل ہی سب کے مفاد میں ہے۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ خطے کو درپیش سنگین خطرات کے باوجود سلامتی کونسل تنازع کے خاتمے کے لیے کسی جامع ردعمل پر متفق نہ ہو سکی، تاہم حقیقی خدشات کے باعث کارروائی ضروری تھی۔ پاکستانی سفیر نے بحرین اور روس کی جانب سے پیش کردہ قراردادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دونوں مسودہ قراردادوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین کی قرارداد کے حق میں پاکستان کا ووٹ بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے اور ان ممالک پر ہونے والے بلاجواز حملوں کی مذمت بھی ہے، خصوصاً وہ حملے جن میں شہریوں، شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ان کی سرزمین پر حملے فوری طور پر بند ہوں گے جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ عاصم افتخار نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ وہ ممالک جو پورے عرصے کے دوران مکالمے اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے رہے، خود حملوں کا نشانہ بنے۔ پاکستان ان حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے روسی فیڈریشن کی قرارداد کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد فریقین کو فوجی سرگرمیاں بند کرنے، کشیدگی سے گریز کرنے اور مذاکرات کی طرف واپسی پر آمادہ کرنا ہے جو پاکستان کے مؤقف کے مطابق ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ 28 فروری کو ایران پر ہونے والے حملوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور پورے خطے کو غیر ضروری بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور ایران میں پیدا ہونے والی عدم استحکام پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے گہرے سماجی، معاشی اور انسانی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات پر حملوں میں کم از کم دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی اب بھی خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث حکومت کو تیل، گیس اور بجلی کے استعمال میں بچت کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے جبکہ کئی فضائی رابطے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ عاصم افتخار نے کہا کہ میزائل اور ڈرون حملوں میں اسکولوں، رہائشی علاقوں، تیل اور بندرگاہی تنصیبات اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس سے شدید انسانی المیہ پیدا ہوا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر ایران کے شہر میناب کے ایک ابتدائی اسکول میں بچوں کی ہلاکت کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر سے باہر طاقت کا استعمال غیر قانونی اور قابل مذمت ہے اور تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ تمام تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی فوری بحالی ضروری ہے تاکہ باہمی احترام اور مفاہمت کے ذریعے پرامن بقائے باہمی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے مختلف ممالک کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت بھی اس سلسلے میں خطے کے ممالک اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ آخر میں انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ تمام فریق فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائیں، تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید حملوں سے گریز کریں اور بحران کے پائیدار حل کے لیے سفارت کاری کو بحال کریں۔

Comments...
Advertisement


Follow on Twitter

Popular Posts
Your feedback is important for us, contact us for any queries.